Badshah Aur Wazeer - 3 Sawal - Gharz ke kuttay - Sabaq Amoz Dilchasp Kahani
badshah-ke-3-sawal
بادشاہ کا موڈ اچھا تھا‘ وہ نوجوان وزیر کی طرف مڑا اور مسکرا کر پوچھا ”تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے“ وزیر شرما گیا‘ اس نے منہ نیچے کر لیا‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”تم گھبراﺅ مت‘ بس اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بتاﺅ“ وزیر گھٹنوں پر جھکا اور عاجزی سے بولا ”حضور آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں‘ میں جب بھی یہ سلطنت دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے اگر اس کا دسواں حصہ میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش نصیب ترین شخص ہوتا“وزیر خاموش ہو گیا‘ بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اگر تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟“ وزیر نے گھبرا کر اوپر دیکھا اور عاجزی سے بولا ”بادشاہ سلامت یہ کیسے ممکن ہے‘ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں“ بادشاہ نے فوراً سیکرٹری کو بلایا اور اسے دو احکامات لکھنے کا حکم دیا‘ بادشاہ نے پہلے حکم کے ذریعے اپنی آدھی سلطنت نوجوان وزیر کے حوالے کرنے کا فرمان جاری کر دیا‘ دوسرے حکم میں بادشاہ نے وزیر کا سر قلم کرنے کا آرڈر دے دیا‘ وزیر دونوں احکامات پر حیران رہ گیا‘ بادشاہ نے احکامات پر مہر لگائی اور وزیر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ”تمہارے پاس تیس دن ہیں‘ تم نے ان 30 دنوں میں صرف تین سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہیں‘ تم کامیاب ہو گئے تو میرا دوسرا حکم منسوخ ہو جائے گا اور تمہیں آدھی سلطنت مل جائے گی اور اگر تم ناکام ہو گئے تو پہلا حکم خارج سمجھا جائے گا اور دوسرے حکم کے مطابق تمہارا سر اتار دیا جائے گا“ وزیر کی حیرت پریشانی میں بدل گئی‘ بادشاہ نے اس کے بعد فرمایا ”میرے تین سوال لکھ لو“ وزیر نے لکھنا شروع کر دیا‘ بادشاہ نے کہا ”انسان کی زندگی کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟“ وہ رکا اور بولا ”دوسرا سوال‘ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے“ وہ رکا اور پھر بولا ”تیسرا سوال‘ انسان کی زندگی کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے“ بادشاہ نے اس کے بعد نقارے پر چوٹ لگوائی اور بآواز بلند فرمایا ”تمہارا وقت شروع ہوتا ہے اب“۔ وزیر نے دونوں پروانے اٹھائے اور دربار سے دوڑ لگا دی‘ اس نے اس شام ملک بھر کے دانشور‘ ادیب‘ مفکر اور ذہین لوگ جمع کئے اور سوال ان کے سامنے رکھ دیئے‘ ملک بھر کے دانشور ساری رات بحث کرتے رہے لیکن وہ پہلے سوال پر ہی کوئی کانسینسس ڈویلپ نہ کر سکے‘ وزیر نے دوسرے دن دانشور بڑھا دیئے لیکن نتیجہ وہی نکلا‘ وہ آنے والے دنوں میں لوگ بڑھاتا رہا مگر اسے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا یہاں تک کہ وہ مایوس ہو کر دارالحکومت سے باہر نکل گیا‘وہ سوال اٹھا کر پورے ملک میں پھرا مگر اسے کوئی تسلی بخش جواب نہ مل سکا‘ وہ مارا مارا پھرتا رہا‘ شہر شہر‘ گاﺅں گاﺅں کی خاک چھانتا رہا‘ شاہی لباس پھٹ گیا‘ پگڑی ڈھیلی ہو کر گردن میں لٹک گئی‘ جوتے پھٹ گئے اور پاﺅں میں چھالے پڑ گئے‘ یہاں تک کہ شرط کا آخری دن آ گیا‘ اگلے دن اس نے دربار میں پیش ہونا تھا‘ وزیر کو یقین تھا یہ اس کی زندگی کا آخری دن ہے‘ کل اس کی گردن کاٹ دی جائے گی اور جسم شہر کے مرکزی پُل پر لٹکا دیا جائے گا‘وہ مایوسی کے عالم میں دارالحکومت کی کچی آبادی میں پہنچ گیا‘ آبادی کے سرے پر ایک فقیر کی جھونپڑی تھی‘ وہ گرتا پڑتا اس کٹیا تک پہنچ گیا‘ فقیر سوکھی روٹی پانی میں ڈبو کر کھا رہا تھا‘ ساتھ ہی دودھ کا پیالہ پڑا تھا اور فقیر کا کتا شڑاپ شڑاپ کی آوازوں کے ساتھ دودھ پی رہا تھا‘ فقیر نے وزیر کی حالت دیکھی‘ قہقہہ لگایا اور بولا ”جناب عالی! آپ صحیح جگہ پہنچے ہیں‘ آپ کے تینوں سوالوں کے جواب میرے پاس ہیں“ وزیر نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا”آپ نے کیسے اندازہ لگا لیا‘ میں کون ہوں اور میرا مسئلہ کیا ہے“ فقیر نے سوکھی روٹی کے ٹکڑے چھابے میں رکھے‘ مسکرایا‘ اپنا بوریا اٹھایا اور وزیر سے کہا ”یہ دیکھئے‘ آپ کو بات سمجھ آ جائے گی“ وزیر نے جھک کر دیکھا‘ بوریئے کے نیچے شاہی خلعت بچھی تھی‘ یہ وہ لباس تھا جو بادشاہ اپنے قریب ترین وزراءکو عنایت کرتا تھا‘ فقیر نے کہا ”جناب عالی میں بھی اس سلطنت کا وزیر ہوتا تھا‘ میں نے بھی ایک بار آپ کی طرح بادشاہ سے شرط لگانے کی غلطی کر لی تھی‘نتیجہ آپ خود دیکھ لیجئے“ فقیر نے اس کے بعد سوکھی روٹی کا ٹکڑا اٹھایا اور دوبارہ پانی میں ڈبو کر کھانے لگا‘ وزیر نے دکھی دل سے پوچھا ”کیا آپ بھی جواب تلاش نہیں کر سکے تھے“ فقیر نے قہقہہ لگایا اور جواب دیا ”میرا کیس آپ سے مختلف تھا‘ میں نے جواب ڈھونڈ لئے تھے‘ میں نے بادشاہ کو جواب بتائے‘ آدھی سلطنت کا پروانہ پھاڑا‘ بادشاہ کو سلام کیا اور اس کٹیا میں آ کر بیٹھ گیا‘ میں اور میرا کتا دونوں مطمئن زندگی گزار رہے ہیں“وزیر کی حیرت بڑھ گئی لیکن یہ سابق وزیر کی حماقت کے تجزیئے کا وقت نہیں تھا‘ جواب معلوم کرنے کی گھڑی تھی چنانچہ وزیر اینکر پرسن بننے کی بجائے فریادی بن گیا اور اس نے فقیر سے پوچھا ”کیا آپ مجھے سوالوں کے جواب دے سکتے ہیں“ فقیر نے ہاں میں گردن ہلا کر جواب دیا ”میں پہلے دو سوالوں کا جواب مفت دوں گا لیکن تیسرے جواب کےلئے تمہیں قیمت ادا کرنا ہو گی“وزیر کے پاس شرط ماننے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا‘ اس نے فوراً ہاں میں گردن ہلا دی‘فقیر بولا ”دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے‘ انسان کوئی بھی ہو‘ کچھ بھی ہو‘ وہ اس سچائی سے نہیں بچ سکتا“ وہ رکا اور بولا ”انسان کی زندگی کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے‘ ہم میں سے ہر شخص زندگی کو دائمی سمجھ کر اس کے دھوکے میں آ جاتا ہے“ فقیر کے دونوں جواب ناقابل تردید تھے‘ وزیر سرشار ہو گیا‘ اس نے اب تیسرے جواب کےلئے فقیر سے شرط پوچھی‘ فقیر نے قہقہہ لگایا‘کتے کے سامنے سے دودھ کا پیالہ اٹھایا‘ وزیر کے ہاتھ میں دیا اور کہا ”میں آپ کو تیسرے سوال کا جواب اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک آپ یہ دودھ نہیں پیتے“ وزیر کے ماتھے پر پسینہ آ گیا ‘ اس نے نفرت سے پیالہ زمین پر رکھ دیا‘ وہ کسی قیمت پر کتے کا جوٹھا دودھ نہیں پینا چاہتا تھا‘ فقیر نے کندھے اچکائے اور کہا ”اوکے تمہارے پاس اب دو راستے ہیں‘ تم انکار کر دو اور شاہی جلاد کل تمہارا سر اتار دے یا پھر تم یہ آدھ پاﺅ دودھ پی جاﺅ اور تمہاری جان بھی بچ جائے اور تم آدھی سلطنت کے مالک بھی بن جاﺅ‘فیصلہ بہرحال تم نے کرنا ہے“ وزیر مخمصے میں پھنس گیا‘ ایک طرف زندگی اور آدھی سلطنت تھی اور دوسری طرف کتے کا جوٹھا دودھ تھا‘ وہ سوچتا رہا‘ سوچتا رہا یہاں تک کہ جان اور مال جیت گیا اور سیلف ریسپیکٹ ہار گئی‘ وزیر نے پیالہ اٹھایا اور ایک ہی سانس میں دودھ پی گیا‘ فقیر نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میرے بچے‘ انسان کی سب سے بڑی کمزوری غرض ہوتی ہے‘ یہ اسے کتے کا جوٹھا دودھ تک پینے پر مجبور کر دیتی ہے اور یہ وہ سچ ہے جس نے مجھے سلطنت کا پروانہ پھاڑ کر اس کٹیا میں بیٹھنے پر مجبور کر دیا تھا‘میں جان گیا تھا‘ میں جوں جوں زندگی کے دھوکے میں آﺅں گا‘ میں موت کی سچائی کو فراموش کرتا جاﺅں گا اور میں موت کو جتنا فراموش کرتا رہوں گا‘ میں اتنا ہی غرض کی دلدل میں دھنستا جاﺅں گا اور مجھے روز اس دلدل میں سانس لینے کےلئے غرض کا غلیظ دودھ پینا پڑے گا لہٰذا میرا مشورہ ہے‘ زندگی کی ان تینوں حقیقتوں کو جان لو‘ تمہاری زندگی اچھی گزرے گی“ وزیر خجالت‘ شرمندگی اور خودترسی کا تحفہ لے کر فقیر کی کٹیا سے نکلا اور محل کی طرف چل پڑا‘وہ جوں جوں محل کے قریب پہنچ رہا تھا اس کے احساس شرمندگی میں اضافہ ہو رہا تھا‘ اس کے اندر ذلت کا احساس بڑھ رہا تھا‘ وہ اس احساس کے ساتھ محل کے دروازے پر پہنچا‘ اس کے سینے میں خوفناک ٹیس اٹھی‘ وہ گھوڑے سے گرا‘ لمبی ہچکی لی اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی
 ہمیں کسی دن کسی ٹھنڈی جگہ پر بیٹھ کر زندگی کے ان بنیادی سوالوں پر ضرور غور کرناچاہیے‘ ہمیں یہ سوچنا چاہیے ہم لوگ کہیں زندگی کے دھوکے میں آ کر غرض کے پیچھے تو نہیں بھاگ رہے‘ ہم لوگ کہیں موت کو فراموش تو نہیں کر بیٹھے‘ ہم کہیں اس کہانی کے وزیر تو نہیں بن گئے ‘ مجھے یقین ہے ان لوگوں نے جس دن یہ سوچ لیا اس دن کے بعد کوئی پانامہ ہو گا اور نہ ہی لیکس‘ اس دن یہ لوگ غرض کے ان غلیظ پیالوں سے بالاتر ہو جائیں گے
      Sabaq Amoz Dilchasp Kahani                                
Badshah ka mood achha tha' woh nojawan wazeer ki taraf mura aur muskura kar poocha ”tmhari zindagi ki sab se barri khwahish kya hai “ wazeer sharmaa gaya' is ney mun neechay kar liya' badshah ney qehqeha lagaya aur bola ”tm ghabrao mat' bas apni zindagi ki sab se barri khwahish btao“ wazeer ghutnon par jhuka aur aajzi se bola ”hzor aap duniya ki khobsorat tareen saltanat ke maalik hain' mein jab bhi yeh saltanat daikhta hon to mere dil mein khwahish peda hoti hai agar is ka daswaan hissa mera hota to mein duniya ka khush naseeb tareen shakhs hota“

wazeer khamosh ho gaya' badshah ney qehqeha lagaya aur
bola mai agar tumhe apni aadhi saltanat day dun to? “ wazeer ney ghabra kar oopar dekha aur aajzi se bola ”badshah salamat yeh kaisay mumkin hai' mein itna khush qismat kaisay ho sakta hon“ badshah ney foran secretary ko bulaya aur usay do ehkamaat likhnay ka hukum diya' badshah ney pehlay hukum ke zariye apni aadhi saltanat nojawan wazeer ke hawalay karne ka farmaan jari kar diya' dosray hukum mein badshah ney wazeer ka sir qalam karne ka order day diya' wazeer dono ehkamaat par heran reh gaya' badshah ney ehkamaat par mohar lagai aur wazeer ki aankhon mein ankhen daal kar bola ”tumhary paas tees din hain' tum ney un 30 dinon mein sirf 3 sawalon ke jawab talaash karna hain' tum kamyaab ho gaye to mera dosra hukum mansookh ho jaye ga aur tumhe aadhi saltanat mil jaye gi aur agar tum nakaam ho gaye to pehla hukum kharij samjha jaye ga aur dosray hukum ke mutabiq tumhara sir utaar diya jaye ga“ wazeer ki herat pareshani mein badal gayi' badshah ney is ke baad farmaya ”mere 3 sawal likh lo“ wazeer ney likhna shuru kar diya' badshah ney kaha ” insan ki zindagi ki sab se barri sachaai kya hai? “ woh ruka aur bola ”dosra sawal' ensaan ki zindagi ka sab se bara dhoka kya hai “ woh ruka aur phir bola ” teesra sawal' ensaan ki zindagi ki sab se barri kamzoree kya hai “ badshah ney is ke baad naqaray par chout lagwayi aur ba awaz buland farmaya ” tumhara waqt shuru hota hai ab “ .

wazeer ney dono parwanay uthaye aur darbaar se daud laga di' is ney is shaam malik bhar ke Danishwer ' Adeeb ' mufakkir aur zaheen log jama kiye aur sawal un ke samnay rakh diye' malik bhar ke Danishwer saari raat behas karte rahay lekin woh pehlay sawal ka hee jawab nah dhoond sakay' wazeer ney dosray din Danishwer barha diye lekin nateeja wohi nikla' woh anay walay dinon mein log berhata raha magar usay koi tasalii bakhash jawab nah mil saka yahan taq ke woh mayoos ho kar dar-al-hakoomat se bahar nikal gaya '

woh sawal utha kar poooray malik mein phira magar usay koi tasalii bakhash jawab nah mil saka' woh mara mara phirta raha' shehar shehar' gaon gaon ki khaak chantta raha' Shahi libaas phatt gaya' pagri dheeli ho kar gardan mein latak gayi' jootay phatt gaye aur paon mein chhalay par gaye' yahan taq ke shart ka aakhri din aa gaya' aglay din is ney darbaar mein paish hona tha' wazeer ko yaqeen tha yeh is ki zindagi ka aakhri din hai' kal is ki gardan kaat di jaye gi aur jism shehar ke markazi pull par latka diya jaye ga '

woh mayoosi ke aalam mein dar-al-hakoomat ki kachi abadi mein poanch gaya' abadi ke suray par aik faqeer ki jhonpari thi' woh girta parta is kutia taq poanch gaya' faqeer sookhi rootti pani mein duubo kar kha raha tha' sath hi doodh ka pyalaa para tha aur faqeer ka kutta sharap sharap ki awazon ke sath doodh pi raha tha' faqeer ney wazeer ki haalat dekhi' qehqeha lagaya aur bola ”jnab aliiiii! aap sahih jagah puhanche hain' aap ke tenu sawalon ke jawab mere paas hin“

wazeer ney herat se is ki taraf dekha aur poocha ”aap ney kaisay andaza laga liya' mein kon hon aur mera masla kya hai “ faqeer ney sookhi rootti ke tukre chabay mein rakhay' muskuraya' apna boriya uthaya aur wazeer se kaha ”ih dekhye' aap ko baat samajh aa jaye gi“ wazeer ney jhuk kar dekha' boorye ke neechay Shahi Khilat bichi thi' yeh woh libaas tha jo badshah –apne qareeb tareen wuzaraa ko inayat karta tha' faqeer ney kaha ”jnab aliiiii mein bhi is saltanat ka wazeer hota tha' mein ney bhi aik baar aap ki terhan badshah se shart laganay ki ghalti kar li thi' nateeja aap khud dekh lijiye “
faqeer ney is ke baad sookhi rootti ka tukda uthaya aur dobarah pani mein duubo kar khanay laga' wazeer ney dukhi dil se poocha ”kya aap bhi jawab talaash nahi kar sakay they “ faqeer ney qehqeha lagaya aur jawab diya ”mira case aap se mukhtalif tha' mein ney jawab dhoond liye they' mein ney badshah ko jawab betaye' aadhi saltanat ka parwana pharha' badshah ko salam kya aur is kutia mein aa kar baith gaya' mein aur mera kutta dono mutmaen zindagi guzaar rahay hin“ wazeer ki herat barh gayi lekin yeh sabiq wazeer ki hamaqat ke tjziye ka waqt nahi tha '

jawab maloom karne ki gharri thi chunancha wazeer anchor person ban'nay ki bajaye faryadi ban gaya aur is ney faqeer se poocha ”kya aap mujhe salawon ke jawab day satke hin“ faqeer ney haan mein gardan hila kar jawab diya mai pehlay do salawon ka jawab muft dun ga lekin teesray jawab ke liye tumhe qeemat ada karna ho gi“ wazeer ke paas shart maan-ne ke siwa koi option nahi tha' is ney foran haan mein gardan hila di' faqeer bola ”dnya ki sab se barri sachaai mout hai' ensaan koi bhi ho' kuch bhi ho' woh is sachaai se nahi bach skta“

woh ruka aur bola ” insan ki zindagi ka sab se bara dhoka zindagi hai' hum mein se har shakhs zindagi ko daimi samajh kar is ke dhokay mein aa jata hai “ faqeer ke dono jawab na qabil tardeed they' wazeer sarshar ho gaya' is ney ab teesray jawab ke liye faqeer se shart poochi' faqeer ney qehqeha lagaya' kuttay ke samnay se doodh ka pyalaa uthaya' wazeer ke haath mein diya aur kaha mai aap ko teesray sawal ka jawab is waqt taq nahi dun ga jab taq aap yeh doodh nahi peetay “ wazeer ke maathey par paseena aa gaya' is ney nafrat se pyalaa zameen par rakh diya' woh kisi qeemat par kuttay ka jootha doodh nahi piinaa chahta tha' faqeer ney kandhay ochkaye aur kaha ” tumahray paas ab do rastay hain' tum inkaar kar do aur Shahi jallad kal tumhara sir utaar day ya phir tum yeh adh pao doodh pi jao ﴾ aur tumhari jaan bhi bach jaye aur tum aadhi saltanat ke maalik bhi ban jao﴾' faisla behar haal tum ney karna hai “ wazeer mkhmse mein phas gaya' aik taraf zindagi aur aadhi saltanat thi aur doosri taraf kuttay ka jootha doodh tha' woh sochta raha '

sochta raha yahan taq ke jaan aur maal jeet gaya aur self respect haar gayi' wazeer ney pyalaa uthaya aur aik hi saans mein doodh pi gaya' faqeer ney qehqeha lagaya aur bola ”mere bachay' ensaan ki sab se barri kamzoree gharz hoti hai' yeh usay kuttay ka jootha doodh taq peenay par majaboor kar deti hai aur yeh woh sach hai jis ney mujhe saltanat ka parwana phaar kar is kutia mein bethnay par majaboor kar diya tha' mein jaan gaya tha' mein jon jon zindagi ke dhokay mein aaon ga' mein mout ki sachaai ko faramosh karta jaon ga aur mein mout ko jitna faramosh karta rahon ga' mein itna hi gharz ki duldul mein dhnsta jaon ga aur mujhe roz is duldul mein saans lainay ke liye gharz ka ghaleez doodh piinaa parre ga lehaza mera mahswara hai' zindagi ki un tenu haqeeqaton ko jaan lau' tumhari zindagi achi guzray gi“ wazeer khajalat' sharmindagi aur khodtrsi ka tohfa le kar faqeer ki kutia se nikla aur mehal ki taraf chal para' woh jon jon mehal ke qareeb poanch raha tha is ke ehsas sharmindagi mein izafah ho raha tha' is ke andar zillat ka ehsas barh raha tha' woh is ehsas ke sath mehal ke darwazay par pouncha '
is ke seenay mein khofnaak tees uthi' woh ghoray se gira' lambi hichki li aur is ki rooh qafas unsari se parwaaz kar gayi.

 hamein kisi din kisi thandhi jagah par baith kar zindagi ke un bunyadi salawon par zaroor ghhor krnachahie' hamein yeh sochna chahiye hum log kahin zindagi ke dhokay mein aa kar gharz ke peechay to nahi bhaag rahay' hum log kahin mout ko faramosh to nahi kar baithy' hum kahin is kahani ke wazeer to nahi ban gaye' mujhe yaqeen hai hum logon ney jis din yeh soch liya is din hum gharz ke un ghaleez peyaalon se balatar ho jayen ge .