Sabaq Amoz Kahaniyan

[Sabaq Amoz Kahaniyan][twocolumns]

Jokes And Funny

[Jokes & Funny Posts][bleft]

Dilchasp O Ajeeb

[Dilchasp O Ajeeb Haqaiq][twocolumns]

Poetry

[Poetry][bsummary]

Hazrat Nooh Ali Salam Ka Waqia - Hazrat Nooh A.S Ki Age - Hazrat Nooh A.S Ka Qissa - Urdu - Hindi

Hazrat Nooh Ali Salam Ka Waqia - Hazrat Nooh A.S Ki Age - Hazrat Nooh A.S Ka Qissa - Urdu - Hindi - Hazrat Nooh Ali Salam Ki Dua - Hazrat Nooh Ali Salam Ki Kashti - Kahani - حضرت نوع کا واقعہ- قصہ -کشتی -کہانی 


  حضرت نوح علیہ السلام

مکمل واقعہ

قرآن مجید بہت سی آیات میں حضرت نوح علیہ السلا۔کے بارے میں بیان کیا گیا ہے اور مجمو عی طور پر قرآن کی انتیس سورتوں میں اس عظیم پیغمبر کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے۔ان کانا م۴۳مرتبہ قرآن کریم میں آیاہے۔

مورخین ومفسرین نے لکھا ہے کہ نوح علیہ السلام کا نام ”عبد الغفار“ یا “عبد الملک “یا ”عبد الاعلی“ تھا اور ”نوح“ کا لقب انہیں اس لیے دیا گیا ہے ، کیونکہ وہ سالہا سال اپنے اوپر یا اپنی قوم پر  نوحہ و  گریہ کرتے رہے۔آپ کے والد کا نام ”لمک“ یا ”لامک“ تھا۔

نوح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے۔ آپ نے تقریباً 950 سال تک لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا مگر آپ کی قوم کا جواب یہ تھا کہ آپ بھی ہماری طرح عام آدمی ہیں اگر اللہ کسی کوبطورِ رسول بھیجتا تو وہ فرشتہ ہوتا۔ صرف 80 لوگوں نے ان کا دین قبول کیا۔ نوح علیہ السلام تمام رسولوں میں سب سے پہلے رسول تھے۔ جنہیں زمین میں مبعوث کیا گیا تھا۔

نوح علیہ اسلام نےان کے عذاب کی بد دعا فرمائی جس کے نتیجے میں ان پر سیلاب کا عذاب نازل ہوا۔ اللہ تعالٰی نے آپ کی قوم پر عذاب بھیجا اور آپ کو ایک کشتی بنانے اور اس میں اہل ایمان کو اور ہر چرند پرند کے ایک جوڑے کو رکھنے کو کہا۔ تب طوفان کی شکل میں عذاب آیا اور سب لوگ سوائے ان کے جو حضرت نوح کی بنائی ہوئی کشتی میں سوار تھے ہلاک ہو گئے۔

 حالات زندگی:

آدم علیہ السلام کے دنیا میں آنے کے بعد ان کی اولاد دنیا میں خوب پھلی پھولی  لیکن ایک مدت گزر جانے کے بعد وہ لوگ خدا کو بھول چکے تھے اور ایک خدا کی بجائے انہوں نے مٹی اور پتھر کے کئی خدا بنالیے تھے  نہ صرف ان کی عبادت گاہیں بتوں سے اٹی پڑی تھیں بلکہ ہر گھر میں بت رکھے ہوئے تھے جن کی وہ پوجا کیا کرتے اور ان سے مرادیں مانگا کرتے تھے۔ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے احسانات جتلا کر سیدھے راستے پر چلنے کی تلقین کی اور اس بری راہ سے منع فرمایا  ان لوگوں نے حضرت نوح علیہ السلام کا  مذاق اڑایا اور کہا :بھلا یہ بتاؤ کہ تم نبی کیسے بن گئے؟ تم تو ہمارے جیسے گوشت پوست کے بنے ہوئے ہو اور ہم میں ہی پیدا ہوئے ہو  تم میں ایسی کون سی چیز ہے  جس سے ہم تمہیں نبی سمجھیں اور اگر خدا کو نبی ہی بھیجنا تھا تو وہ کسی فرشتے کو نبی بنا کر بھیج دیتا۔ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کے احسانات جتلائے اور کہا تم کو چاہیے کہ ان بے کار بتوں کی پرستش چھوڑ کر ایک خدا کی عبادت کرو اور میں اس کی تم سے کوئی  اجرت نہیں مانگتا، تمہاری ہی بھلائی کے لیے تم کو نصیحت کرتا ہوں۔ نوح علیہ السلام نے کوئی ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم میں وعظ و تبلیغ کی اور کوشش کی کہ وہ خدائے واحد کے سچے پرستار بن جائیں مگر ان پر کوئی اثر نہ ہوا، بلکہ حضرت نوح علیہ السلام وعظ فرماتے تو ان کومذاق مستی میں اڑاتے، کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے تاکہ ان کی آواز کانوں میں نہ پہنچ جائے  صرف چند لوگ تھے جو آپ پر ایمان لائے۔ قوم کی یہ سرکشی اور نافرمانی دیکھ کر نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا کہ اے اللہ، میں تو اس قوم سے تنگ آگیا ہوں، اب تو ہی ان سے بدلہ لے۔

 کشتی نوح:

اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ ایک کشتی بناؤ اور یہ بھی حکم دے دیا کہ دیکھنا اب کسی کی سفارش نہ کرنا، اب ان پر ضرور عذاب نازل ہوکے رہے گا حضرت نوح علیہ السلام خدا کے حکم کے مطابق کشتی بنانے میں لگ گئے۔جب آپ کشتی بنارہے تھے تو قوم کے لوگ اس کا مذاق اڑارہے تھے   طعنے کس رہے تھے کہ کل تک تبلیغ کررہے تھے  آج بڑھئی بن گئے ہیں۔کبھی کہتے کہ کشتی تو بنارہے ہو،لیکن  دریا کہاں سے لاؤگے کشتی چلانے کے لیے!

حضرت نوح علیہ السلام اپنے کام میں لگے رہے۔جب کشتی بن کر تیار ہوگئی تو خدا نے حکم دیا کہ اپنے اہل اور ان لوگوں کو کشتی پر سوار کرلو جو مجھ پر ایمان لے آئے ہیں اور ہر جانور کا ایک ایک جوڑا بھی کشتی میں رکھ لو۔

قوم نوح پرعذاب:

جب سب لوگ کشتی میں بیٹھ گئے تو خدا کے حکم سے زمین کے سوتے پھوٹ پڑے اس کے ساتھ ہی موسلا دھار بارش شروع ہوگئی  زمین پر پانی بڑھنے لگا اور حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی پانی میں تیرنے لگی، پانی بڑھا تو حضرت نوح علیہ السلام نے دیکھا کہ ان کا ایک بیٹا جس کا نام کنعان تھا پانی میں ڈوبنے لگا ہے آپ نے اسے آواز دی کہ اب بھی آجاؤ تاکہ خدا کے عذاب سے بچ سکو مگر اس نے جواب دیا آپ جائیں، میں کسی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر اپنی جان بچالوں گا۔ پانی تھا کہ تھمنے کا نام ہی نہ لیتا تھا۔ دنیا کے نافرمان اور سرکش لوگ اس سیلاب میں فنا کی گھاٹ اتر گئے اور حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑی کی چوٹی پر جا کر ٹھہر گئی۔ اب خدا کے حکم سے سیلاب تھم گیا اور زمین نے سارا پانی اپنے اندر جذب کرلیا۔ اب خدا نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ کشتی سے اتر جاؤ  تجھ پر اور وہ لوگ جو تجھ پر ایمان لائے ہیں ان پر ہماری رحمتیں برکتیں نازل ہوں گی۔ چوں کہ اس طوفان میں دنیا کے تمام لوگ ہی فنا ہوگئے تھے، صرف چند لوگ ہی زندہ بچے تھے  اس لیے حضرت نوح علیہ السلام کو آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے  ان ہی کی اولاد اس وقت دنیا میں آباد ہے۔

نوح علیہ السلام کی  اولاد:

نوح علیہ السلام کے تین بیٹے طوفان میں بچ گئےتھے کیونکہ وہ مسلمان تھے: ”حام“ ”سام“ “یافث” ۔موٴرخین کا نظریہ ہے کہ کرہ زمین کی اس وقت کی تمام نسلِ انسانی کی بازگشت انہی تینوں فرزندوں کی طرف ہے ۔ایک گروہ ”حامی“ نسل ہے جو افریقہ کے علاقہ میں رہتےہیں۔ دوسرا گروہ ”سامی “نسل ہے جوشرق اوسط اور مشرق قریب کے علاقوں میں رہتے ہیں اور ”یافث “ کی نسل کو چین میں آبادسمجھتے ہیں۔

مزار نوح :

آذربائیجان میں موجود ایک مزار ہے جس کے متعلق آذربائیجان میں مشہور ہے کہ یہ حضرت نوح کی قبر مبارک ہے (اگرچہ قبر نوح کے مقام کے متعلق کئی روایتیں ہیں۔)
طوفان نوح تمام کرہ ارض پہ آیا تھا یا خاص خطے پر ؟
قدیم ماہرین فلکیات کے مطابق یہ طوفان تمام کرہ ارض پر نہیں آیا تھا بلکہ ایک خاص خطہ تک محدود تھا ،جبکہ بعض اہل علم کے نزدیک یہ تمام کرہ ارض پر حاوی تھا ۔زمین پر ایسے متعدد طوفان آئے جن میں سے یہ ایک تھا عرب ( جہاں قوم نوح آباد تھی ) کی اس سرزمین کے علاوہ بھی بہت سے مقامات میں بلند پہاڑوں پر ایسے حیوانات کے ڈھانچے اور ہڈیا ں بکثرت پائی گئی ہیں جن سے متعلق علم طبقات الارض یہ کہتے ہیں کہ یہ صرف پانی میں ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔ ان بات کو دیکھتے ہوئے اہل تحقیق کی یہ رائے ہے کہ طوفان تمام کرہ ارض پرآیا تھا ۔

جودی پہاڑ :

قرآن کریم کے مطابق کشتی نوح جودی پہاڑ پر آکر ٹھیری تھی۔جودی پہاڑ مشرقی ترکی میں واقع برف سے ڈھکی ایک چوٹی ہے ۔ آرمینیاکی سرحد سے 300 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔

نوح ؑ کی کشتی  شبہات کا جواب :

نوح ؑ کی کشتی جودی پہاڑ پہ آکر ٹھیرگئی تھی ۔1977 میں ترکی کےاس پہاڑ پر کچھ مہم جووں نےاس کشتی کو دریافت کیا۔اخبارات میں اس کی تصاویرشائع ہوئیں تو یہودیوں،عیسائیوں اور ملحدین کےدرمیان ایک نئی بحث چھڑگئی۔ملحدین اور روشن خیالوں نے اس پر چار بڑے اعتراض اٹھائے،یہود ونصاری اس کا جواب نہ دے سکے۔مگر قربان جائیے کہ قرآن مجید میں ان کے تمام اعتراضات کا جواب پہلے سے موجود ہے۔

 پہلا اعتراض :

بغیر کسی ٹیکنالوجی کے چھ ہزار سال قبل ایسی عظیم الشان کشتی بنانا کیسے ممکن ہوا جو اتنا وزن اٹھا کر لمبے عرصے تک سمندر میں سفر کرتی رہی ؟

 جواب: وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ ﴿١٣﴾

اور ہم نے اسے تختوں اور کیلوں والی (کشتی) پر سوار کر لیا۔

تحقیق کے بعد اس کشتی سے دھاتی کیلوں اور تختوں کے آثار ملے ہیں۔کیلوں اور تختوں کی وجہ سے ہی یہ ممکن ہوا۔ اللہ جل شانہ نے نوح علیہ السلام کو اس کا علم عطا فرمادیا تھا۔

دوسرا  اعتراض :

اس زمانے میں اتنی بڑی کشتی کیسے بنائی جاسکتی تھی جس میں دنیا بھر کے جانوروں کے جوڑے سوار ہوئے ؟

 جواب :حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِن كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ ۚ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلَّا قَلِيلٌ ﴿ہود:آیت نمبر٤٠﴾

یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور ابلنے لگا ہم نے کہا کہ اس کشتی میں ہر قسم کے (جانداروں میں سے) جوڑے (یعنی) دو (جانور، ایک نر اور ایک ماده) سوار کرا لے اور اپنے گھر کے لوگوں کو بھی، سوائے ان کے جن پر پہلے سے بات پڑ چکی ہے اور سب ایمان والوں کو بھی، اس کے ساتھ ایمان ﻻنے والے بہت ہی کم تھے۔

یعنی یہ کشتی کوئی عام کشتی نہیں تھی بلکہ بہت بڑی کشتی تھی۔یہ کشتی تین منزلہ ہے اور بہت لمبی چوڑی ہے۔ اس میں پانچ سو بائیس ریل کے ڈبے سوار کیے جاسکتے ہیں۔ پچیس ہزار جانوروں کی گنجائش موجود ہے۔ اس لیے اتنے جانوروں کا سماجانا بالکل درست ہے۔

تیسرا  اعتراض :

اتنی بڑی کشتی اتنے عظیم طوفان میں بغیر لنگر کے کیسے تیر سکتی ہے ؟

 جواب : وَقَالَ ارْكَبُوا فِيهَا بِسْمِ اللَّهِ مَجْرَهَا وَمُرْسَاهَا ۚ إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿٤١﴾ سورہ ہود

نوح ﴿علیہ السلام﴾ نے کہا اس کشتی میں بیٹھ جاؤ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے  یقیناً میرا رب بڑی بخشش اور بڑے رحم والا ہے۔

حیرت انگیز طور پر جس پہاڑ پریہ کشتی ٹھہری ہے اس کی نیچے وادی میں چٹانوں کے نیچے بڑے بڑے لنگر دریافت ہوئے ہیں وہ اسی کشتی کے لنگر ہیں۔

چوتھا اعتراض :

ایک لکڑی کی کشتی اتنے لمبے عرصے تک ایک پہاڑ کی چوٹی پر کیسے باقی رہی ؟

 جواب :۔ وَلَقَد تَّرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ﴿سورہ قمر: آیت ١٥﴾

اور ہم نے اسے اہل دنیا کے لیے اپنی قدرت کی نشانی بنایا ہے، تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟

حالیہ تحقیق سے پتا چلتا ہے اس پورے پہاڑی سلسلے میں صرف اس پہاڑ کی چوٹی پر برف ہے جہاں یہ کشتی ہے برف کی وجہ سے یہ کشتی محفوظ رہی ۔ 



HAZRAT SYYEDINA NOOH ALI SALAM

Hakim mustadrak bayan karte hain ke, inka naam ABDUL GHAFFAR hai aur chunke ye apni zaat ke liye bakasrat roya karte the isi liye inka naam NOOH pad gaya. Aur Hakim ye bhi kehte hain ki aksar sahaba (Rizwanullah Alaihim Ajmayeen) NOOH alaihissalam ke IDREES Ali Salam se pehle hone ko mante hain. NOOH Ali Salam Bin LAMK ibne MATOOSHALAKH ibne AKHNOOKH.. Aur mash hoor qaul ke mutabiq AKHNOOKH hi IDREES Ali Salam hain . Aur Tibrani hazrat abi zar ( Rahmatullahi Allaih) se riwayat karte hain ke unho ne kaha. “mai ne rasool allah Sallallahu Alaihi Wasallam se arz ki key a Rasool Allah (SAWS) sab se pehle nabi kon hain? Rasoolallah SAWS ne irshad farmaya ADAM Ali Salam, mai ne kaha phir kaun? Irshad kiya hazrat NOOH Ali Salam ,aur Hazrat ADAM aur NOOH ke darmayan 20 sadiyan (20 centuries) hain” yani 2 hazar saal ka arsa. aur mustadrak me ibn e abbas raziallahu anhu se marwi hai, unho ne kaha “ADAM aur NOOH ke darmayan 10 sadiyo (10 centuries) ka fasla tha.” Mustadrak hi me ibn e abbas Rahmatullahi Allaih se marfooan marwi hai ke “khuda ta’ala ne NOOH Ali Salam ko 40 saal ki umr me risalat ke saath maboos farmaya, pas wo 950 saal zinda rehker apni qaum ko khuda ki taraf bulate rahe…aur toofaan ke baad 60 saal zinda rahe, yahan tak ke inke samne hi admiyo ki kasrat hogai aur wo dunya me khoob phail gaye.”Quraan me bhi aap ki umr 950 saal batai gai hai. (nooh Ali Salam ko adam e saani bhi kaha jata hai, aur nooh Ali Salam sabse pehle rasool the

Hazrat Nooh (Ali Salam) Pure Jee-Jaan Se Aur An-Thak Tarike Se Apni Qaum Ko Deen Ki Daawat Dete Rahe. Jab Qoum Ke Kuch Hi Logo Ne Imaan Laya, Aur Baqi Hatdharam, Ziddi, Aur Nooh (Ali Salam) Ko Takleef Dene Wale Aur Unka Mazaaq Udaane Wale Rah Gaye Toh Nooh (Ali Salam) Ne Duwaa Ki, “Aye Mere Rab Inn Logo Ne Mujhe Jhutlaa Diya Hai, Ab Tu Hi Meri Madad Farma”. Tab Allah Ta’ala Ne Nooh (Ali Salam) Ki Taraf Wahee Ki, “Hamari Nigraani Aur Hidaayat Ke Mutaabiq Kashti (Naav) Banaavo ! Fir Jab Hamaara Huqm Aa Jaaye Aur Tanoor Ubalne Lage Toh Har Kisam Ke Jaanwar Aur Parindo Ke Jode Se Do (Nar Aur Maada) Iss Me Baitha Lena Aur Apne Gharwalo Ko Bhi (Imaan Walo Ko). Aur Jin Logo Ne Zulm Kiya (Kaafir) In Ke Baare Me Mujh Se Koi Sawaal Mat Karna, Kyonki Woh Sab Paani Me Garq Kar Diye Jaayege. Aur Fir Tum Aur Jo Tumhaare Hamraah Ho Kashti (Naav) Me Achchi Tarha Baith Jaaye Toh Kehna “Sab Ta’areef Allah Ta’ala Ke Liye Hai, Jis Ne Hame Zaalimo Se Nizaat Di” Aur Ye Bhi Kehena “Mere Rab Hame Barqat Wali Jagaah Par Utaarna, Aur Tu Sab Se Behtar Utaarne Wala Hai”. Aur Fir Jab Nooh (Ali Salam) Ne Sab Ko Kashti Par Sawar Kar Liya Toh Zameen Se Paani Ubalna Shuru Ho Gaya Aur Tez Muslaadhar Baarish Hone Lagi. Chaaro Taraf Paani Hi Paani Ho Gaya. Kaafir Apni Jaan Bachane Ke Liye Unchi Jagaho Par Jaane Lage. Ab Nooh (Ali Salam) Ki Kashti (Naav) Paani Me Upar Uthne Lagi. Nooh (Ali Salam) Ne Dekha Ki Unka Kaafir Beta Pahaadi Par Ja Rahaa Hai Toh Nooh (Ali  Salam) Ne Use Aawaaz Di, “Beta Jaldi Se Naav Me Sawaar Ho Jaa”. Uss Ne Jawwab Diya, “Mai Pahaadi Par Ja Rahaa Hoon Wahaa Mai Bach Jawooga”. Nooh (Ali Salam) Ne Kahaa, “Aaj Koi Nahi Bachne Wala”. Aur Unke Dekhte Hi Dekhte Ek Unchi Lahar Uthi Aur Unke Bete Ko Bahaa Le Gayee. Nooh (Ali Salam) Ne Kahaa, “Aye Mere Rab Mera Beta Mere Apno Me Se Hai”. Allah Ta’ala Ne Farmaaya, “Tumhe Jis Baat Ka Ilm Nahi Uske Baare Me Sawaal Mat Karo, Wo Kaafiro Me Se Tha Tumhaare Apno Me Se Nahi, Tumhaare Apne Wo Hai Jo Imaan Laaye”. Kayee Dino Tak Muslaadhar Baarish Hoti Rahi Aur Zameen Se Bhi Paani Nikalta Rahaa. Jahaa Tak Bhi Nazar Jaati Thi Har Taraf Paani Hi Paani Tha. Sabhi Kaafir Aur Unke Boot Aur Jo Kuch Bhi Zameen Par Tha Sab Paani Me Garq Ho Gaye. Fir Allah Ta’ala Ne Aasmaan Ko Huqm Diya Ki Paani Barsaana Rok De, Aur Zameen Ko Bhi Huqm Diya Ki Apna Paani Nigal Ja. Kashti Kayee Dino Tak Paani Me Tairti Rahi. Kashti Me Chuhe (Mouse) Ho Gaye Jo Anaaj Ke Galle Ko Nuqsaan Pahuchaane Lage. Nooh (Ali Salam) Ne Allah Ta’ala Se Duwaa Ki, Allah Ta’ala Ne Kahaa Sher (Lion) Ki Pust Par Haath Maaro. Nooh (Ali Saalm) Ne Sher Ki Pust Pe Haath Maara Toh Billi (Cat) Paida Huyee Aur Usne Saare Chuho Ko Khaa Liya. Isi Tarha Kashti (Naav) Me Gandagi Paida Hone Lagi Toh Nooh (Ali Salam) Ne Fir Allah Ta’ala Se Duwaa Ki, Allah Ta’ala Ne Kahaa, “Haathi (Elephant) Ki Pust Par Haath Maaro”. Nooh (Ali Salam) Ne Haathi Ki Pust Par Haath Maara Toh Badjaanwar (Pig) Paida Huwaa Aur Usne Saari Gandagi Saaf Kar Di