Hajjaj Bin Yusuf Ka Waqia - Hajjaj Bin Yusuf Kon Tha - Hajjaj Bin Yusuf Death - In Urdu Hindi 

حجاج بن یوسف کا انجام  

 

Hajjaj Bin Yusuf Biography

حجاج بن یوسف ثقفی
پیدائش: 40ھ/660ء
انتقال: 96ھ ۔714ء

حجاج بنو امیہ کا ایک جرنیل،ظالم اور سفاک،سخت گیر گورنر تھا،کہاجاتاہے کہ اسی کے ایماء اور حکم سے قرآن میں اعراب لگائے گئے،فصیح اللسان تھا۔اموی حکومت کو مستحکم اور مضبوط بنانے میں اس کا بڑا حصہ رہا۔ اس نے 73ھ میں مکہ کا محاصرہ کیا جو سات ماہ تک جاری رہا اور کعبہ پر منجنیق سے پتھر برسائے۔اس وقت وہاں حضرت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے پناہ لے رکھی تھی جنہیں اس نے شہید کروا دیا۔ یہ واقعہ اکتوبر 692ء کا ہے اس حملے  میں دس ہزار سے زائد مسلمان شہید ہو ئے تھے۔
مکمل نام ابو محمد حجاج بن یوسف بن حکم بن ابو عقیل ثقفی۔ طائف میں پیدا ہوا وہی اس کی پرورش بھی ہوئی،حجاج بن یوسف طائف کے مشہور قبیلہ بنو ثقیف سے تعلق رکھتا تھا۔ ابتدائی تعلیم و تربیت اس نے اپنے باپ سے حاصل کی ۔ جو ایک مدرس تھا۔ حجاج کا بچپن سے ہی اپنے ہم جماعتوں پر حکومت کرنے کا عادی تھا۔ تعلیم سے فارغ ہو کر اس نے اپنے باپ کے ساتھ ہی تدریس کا پیشہ اختیار کیا لیکن وہ اس پیشے پر قطعی مطمئن نہ تھا اور کسی نہ کسی طرح حکمران بننے کے خواب دیکھتا رہتا تھا۔ بالاخر وہ طائف چھوڑ کر دمشق پہنچا اور کسی نہ کسی طرح عبدالملک بن مروان کے وزیر کی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ وزیر نے جلدی ہی اس کی انتظامی صلاحیتوں کو بھانپ لیا اور اسے ترقی دے کر اپنی جاگیر کا منتظم مقرر کر دیا۔ ایک چیز جس کی وزیر کو ہمیشہ شکایت رہتی تھی اس کی سخت گیری تھی لیکن اس سخت گیری کی وجہ سے وزیر کی جاگیر کا انتظام بہت بہتر ہوگیا تھا۔
اتفاق سے عبدالملک کو اپنی فوج سے سستی اور کاہلی کی شکایت پیدا ہو گئی اور اس نے ایک محتسب مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیر نے حجاج کا نام پیش کیا لیکن یہ وضاحت کر دی کہ آدمی سخت گیر ہے اس لیے وہ اس کے افعال کے لیے جوابدہ نہیں ہوگا۔ اس طرح حجاج عبدالملک کی فوج میں شامل ہو گیا۔ اس حیثیت سے اس نے عبدالملک کی خوب خدمت کی اور اموی فوج اس سے دہشت کھانے لگی۔ یہاں تک کہ خود وزیر کا دستہ بھی اس کی سخت گیری کا شکار ہوا۔ حالانکہ وہ خود کئی سال انھیں میں شامل رہا تھا۔ عبدالملک نے جب عراق پر حملہ کیا تو مصعب بن زبیر کے خلاف اس کے سخت اقدامات نے عبدالملک کو قائل کر دیا کہ حجاج اس کے کہنے پر کوئی بھی اقدام کر سکتا ہے۔ اور اس کے لیے اخلاقی و مذہبی حدود عبور کرنا کوئی مشکل نہیں۔

مکہ پر حملہ

عبداللہ بن زیبر رضی اللہ عنہ اس وقت مکہ میں پناہ گزین تھے اور عبدالملک کو ان کی حکومت ختم کرنے کے لیے کسی ایسے شخص کی تلاش تھی جوعبداللہ بن زبیر کا خاتمہ کر سکے۔ چنانچہ حجاج کو اس مہم کا انچارج بنایا گیا۔ اس نے مکہ کی ناکہ بندی کرکے غذائی بحران پیدا کر دیا اور سنگباری کی۔ جب شامی خانہ کعبہ کی حرمت یا عبداللہ بن زبیر کی اخلاقی اپیلوں کی وجہ سے ہچکچاتے تو حجاج خود سنگباری کرتا تھا۔ اس مہم میں اس نے انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کرکے عبداللہ بن زبیر کو شہید کر ڈالا ۔ اور ان کی لاش کو کئی روز تک پھانسی پر لٹکائے رکھا۔اس واقعہ میں کعبہ کی بھی دیواریں منہدم ہو گئیں ۔جو بعد دوبارہ تعمیر کی گئیں۔اس مہم کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسے حجاز کا گورنر کر دیا گیا۔

حجاز کی گورنری

حجاج بن یوسف کو گورنر حجاز اس لیے بنایا گیا تھا کہ وہ اموی اقتدار کو اس مقدس سرزمین میں مستحکم کر ڈالے چنانچہ کچھ دیر تک مکہ میں مقیم رہا۔ اس نے ہر اس شخص کو قتل کروا ڈالا جس سے اموی اقتدار کے خلاف زبان کھولنے کی توقع کی جاسکتی تھی۔ اس کے مظالم نے عوام کے حوصلے پست کر دئیے اور وہ اموی غلامی پر رضامند ہو گئے۔

مکہ کے بعد مدینہ کی باری آئی۔ حجاج وہاں پہنچا تو صحابہ زادوں اور تابعین کی ایک کثیر تعداد موجود تھی۔ اس نے اہل مدینہ کو جمع کرکے ایک زوردار تقریر کی اور انھیں عبدالملک کی بیعت کرنے پر آمادہ کرنا چاہا تاہم اہل مدینہ خاموش بیٹھے رہے اور کسی نے مخالفت بھی نہ کی لیکن بیعت بھی کسی نے نہ کی۔ حجاج نے انھیں تین دن کی مہلت دے کر رخصت کر دیا لیکن ساتھ ہی قتل و غارت کا مشغلہ شروع کر دیا لوگ اس کے جورو ستم کے واقعات سن چکے تھے اور واقعہ حرہ انھیں ابھی بھولا نہیں تھا۔اس لیے انہوں نے عبدالملک کی بیعت کر لی۔

(واقعہ حرہ ایک دل دہلا دینے والا واقعہ تھا۔ جس میں یزیدی فوج نے واقعہ کربلا کے بعد مدینہ طیبہ پر ہلا بول دیا۔ اور مدینہ میں قتل و غارت کا بازار گرم کردیا۔مسجد نبوی میں گھوڑے باندھ دئے گئے اور مسجد نبوی میں تین دن تک اذان بھی نہ دی جا سکی 

حجاج نے معززین کی ایک فہرست تیار کر ڈالی اور ان سب کو یکے بعد دیگرے طلب کرکے بیعت لی جس نے اموی حکومت پر تنقید کی اس کی گردن اڑا دی ۔ دو ماہ تک اس کی بربریت کے بھرپور مظاہرے ہوتے رہے۔ بالاخر اس مقدس بستی کے باشندوں سے قیامت ٹل گئی اور حجاج کا تبادلہ عراق کر دیا گیا۔

حجاج عراق میں

عبدالملک نے اہل خراسان اور کوفہ و بصرہ کی باغیانہ روش کو ختم کرنے کے لیے حجاج کو گورنر مقرر کیا۔ اس نے صرف بارہ آدمی ساتھ لیے اور ایک ہزار میل کا فاصلہ طے کرکے بالکل غیر متوقع طور پر کوفہ پہنچا ۔ کوفہ میں داخلہ کے وقت اس نے نقاب پہن رکھا تھا۔تاکہ لوگ اسے پہچان نہ سکیں۔ اس کے ساتھی اہل کوفہ کو پکار پکار کر مسجد میں جمع ہونے کا حکم دے رہے تھے ۔ حجاج بن یوسف ثقفی مسجد پہنچا تو لوگ شرارت پر آمادہ تھے ۔ کنکریاں ہمراہ لائے تھے تاکہ ان سے نئے گورنر کا استقبال کر سکیں۔ اس نے ممبر پر چڑھ کر نقاب الٹا اور ایسی تقریر کی سب لوگ ڈر گئے۔
اس تقریر سے لوگ بری طرح مرعوب ہوئے ۔ اس نے عبدالملک کا خط پڑھنے کا حکم دیا۔ جس میں اس کی تقریر کا حکم تھا خط کا آغاز السلام علیکم سے ہوتا تھا لوگ سہمے ہوئے خط سن رہے تھے لیکن حجاج سخت غصے کے عالم میں چیخا ’’کمینوں امیر المومنین تم پر سلام بھیجتے ہیں اور تم میں سے کوئی جواب تک نہیں دیتا۔ اس پر سب لوگوں نے بیک وقت سلام کا جواب دیا اور خط کو نہایت غور سے سنا
حجاج نے کوفہ کے لوگوں کو حکم دیا کہ جو لوگ مہلب بن ابی صفرہ کی فوج سے بھاگ کر کوفہ آئے ہیں وہ فوراً واپس چلے جائیں ورنہ انھیں قتل کر دیا جائے گا۔ اہل کوفہ اس حد تک فرمانبردار ہوگئے تھے کہ انھوں نے اس حکم کی فوراً تعمیل کی۔

بصرہ کی بغاوت

حجاج کوفہ سے بصرہ پہنچا اور وہاں کے لوگوں کو مرعوب کرنے کے لیے بھی ایک زبردست تقریر کی اور فوج کی تنخواہوں میں کمی کر ڈالی۔ عبدالله بن جارود ایک سردار نے اس حکم کے خلاف اپیل کی تو اس نے اسے جھاڑ دیا اس پر فوج میں بغاوت ہو گئی اور فوجیوں نے حجاج کے خیمہ کو گھیر لیا لیکن حجاج نے رشوت دے کر بہت سے لوگوں کو ساتھ ملا لیا اور اس طرح بغاوت فرو ہوگئی اور اس کے قائد قتل کر ڈالے گئے۔ اہل عراق اس بغاوت کی ناکامی سے بہت مرعوب ہوئے۔
حجاج نے حضرت انس بن مالک مشہور صحابی کی شان میں بھی گستاخی کی اور ان کے لڑکے کو شہید کروا دیا تاہم عبدالملک نے اس پر سخت گرفت کی اور حجاج کو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے معافی مانگنی پڑی۔

حجاج نے ولید بن عبدالملک کے عہد میں فتوحات پر زیادہ زور دیا اور سندھ اور ترکستان میں بے شمار فتوحات کیں۔ اس نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو سندھ پر حملہ کرنے کا حکم دیا اور یوں ہندوستان میں پہلی مرتبہ مسلمانوں کی باقاعدہ حکومت قائم ہوئی
حجاج بن یوسف حکومت کے استحکام کے لیے ہر کام کرنے کو تیار رہتا۔ اموی حکومت کے استحکام میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے ۔ اس نے اخلاقی و مذہبی احکام کو ہمیشہ خلیفہ کی خوشنودی کے لیے قربان کیا اور حجاز و عراق پر مضبوط اموی کنٹرول قائم کر دیا۔ معاشی استحکام کے لیے اس نے معاشی اصلاحات نافذ کیں اور غیر مسلموں سے جزیہ وصول کیا۔ اس کا مزاج فاتحانہ تھا اس لیے اس کے عہد میں فتوحات بھی حاصل ہوئیں ۔ لیکن یہ صرف تصویر کا ایک رخ ہے دوسرا رخ یہ کہ وہ نہایت ظالم اور سفاک انسان تھا۔ بے جا تلوار استعمال کرتا ۔ انسانی جان کی حرمت اس کے نزدیک کوئی معنی نہ رکھتی تھی۔ حرام مہینوں کا احترام بھی وہ کم ہی کرتا تھا۔ عراقیوں اور عجمی مسلمانوں سے اس کا سلوک نہایت ظالمانہ تھا ۔ وہ سخت متعصب تھا اور شمالی عدنانی قبائل کا سرپرست تھا۔ اس نے یمنیوں کو بلاوجہ ظلم کا نشانہ بنایا اور اس طرح سے اس کے ظلم و جور اور قبائلی تعصب پر بنو امیہ کی جڑیں کھوکھلی کر دیں۔ اور عوام الناس کے دلوں میں ان کے خلاف نفرت کا بیج بویا گیا جو اموی سلطنت کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔

القصہ حجاج نے اپنی تلوار اور تقریری قوت بنو امیہ کے استحکام کے لیے استعمال کی جس سے وقتی طور پر اموی حکومت مستحکم ہوگئی لیکن اس کی غلط کاریوں نے عوام کو اموی حکومت سے برگشتہ کر دیا۔

حجاج کا ایک انتہائی ظالمانہ پہلو

حجاج نے اپنے اور حکومت کے مخالفین پہ بےجا ظلم ڈھائے۔ اس کی محبوب سزا مخالف کو برہنہ کر کے بغیر چھت کے قید خانوں میں رکھنا تھی۔ اس معاملے میں وہ مرد اور عورت کی تمیز بھی نہیں رکھتا تھا۔ مزید اذیت کے لیے وہ ایک ہی خاندان کے مرد و خواتین کو ایک ہی جگہ برہنہ قید رکھتا۔ ایک وقت میں اس کے برہنہ قیدیوں کی تعداد پچاس ہزار تک پہنچ گئی تھی جن میں تیس ہزار خواتین تھیں۔ ان قیدیوں میں اکثریت حجاج و بنی امیہ کے سیاسی مخالفین کی تھی۔

حجاج بن یوسف ثقفی کی ۱۳ رمضان ۹۵ ہجری قمری کو ۵۳ سال کی عمر میں موت واقع ہوئی وہ شہر واسط میں آکلہ(بہت زیادہ کھانے)کے مرض کی وجہ سے مر گیا۔اور تاریخ کا سفاکانہ باب بند ہوا اور مسلمانوں نے اس کی موت پرسکھ کا سانس لیا۔
یہ شخص اتنا خونریز تھا کہ بعض مورخین نے لکھا ہے کہ اس نے تقریبا ایک لاکھ بیس ہزار مسلمانوں کو قتل کیا اور کئی ہزار مرد اور عورتوں کو زندان میں قید کیا تھا۔
یہاں کلک کریں اور  اسی طرح کی تحاریر اور معلومات پڑھیں