D.B Cooper Ka Waqia - Dilchasp & Herat Angez & Na Qabil E Yaqeen Waqia

db-cooper-ka-waqia-heran-kun-waqia-dilchasp-maloomat-urdu-hindi

                                 ڈی بی کوپر

دنیا کی تاریخ میں ایسے کئی پراسرار افراد کا ذکر ملتا ہے جن کی حقیقت آج تک ایک راز ہے یہ اشخاص بغیر کسی شناخت کے دنیا کے سامنے آتے ہیں' تاریخ میں جگہ بناتے ہیں اور پھر اچانک غائب ہوجاتے ہیں٬ ان کے بارے میں کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون تھے؟ اور کہاں سے آئے؟ اور کہاں چلے گئے؟ 
انہیں پُراسرار لوگوں میں سے ایک نام ہے ۔

                        D.B. Cooper 

اس شخص کے بارے میں 1971ء میں پرنٹ میڈیا پر کافی چرچا رہا۔ اور لوگوں نے اس کے بارے میں بہت سی قیاس آرائیاں کی لیکن اس کی اصل حقیقت کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔ یہ کون تھا کہاں سے آیا تھا اور کہاں چلا گیا؟
24 نومبر 1971 کو ایک شخص نے بوئنگ 727 جہاز کو ہائی جیک کرلیا اور اغوا کے لیے اس شخص نے لوگوں کو یہ کہہ کر ڈرایا کہ میرے بریف کیس میں بم موجود ہے۔ مذکورہ شخص نے 2 لاکھ ڈالر اور 4 پیراشوٹ کی ڈیمانڈ کی۔پائلٹ نے تمام مسافروں کو اس ہائی جیکر کی ڈیمانڈ پوری کرنے کے لئے مدد کے لئے کہا۔ بصورت دیگر اگر تمام مسافروں نے ڈالرز دینے میں مدد نہ کی تو تمام ہی موت کا شکار ہوجائیں گے۔ چونکہ مسافروں کے پاس اتنے پیسے نہ تھے کہ اس کی ڈیمانڈ پوری کی جاتی۔ پائلٹ نے قریبی ائیر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کرکے اس کی ڈیمانڈ پوری کرنے کے لئے پولیس اور ائیر کمپنی سے رابطہ کیا۔ آخر کار اس کی ڈیمانڈ پوری کرنے کے لئے طیارے کو سیٹل ائیر پورٹ پر لینڈ کرایا گیا۔ اور اس کی ڈیمانڈ پوری کردی گئی۔ اس نے جہاز کو دوبارہ پرواز کے آرڈر دئیے اور جہاز کو میکسکو کی طرف پرواز کرنے کے لئے کہا۔ جہاز نے دوبارہ سیٹل ائیر پورٹ سے اڑان بھری۔ اور اس شخص نے آدھی رات کے وقت جہاز سے چھلانگ لگا دی۔ حیرت انگیز طور پر نہ تو اس شخص کا آج تک سراغ مل سکا اور نہ ہی یہ کسی کو اس واقعہ کے بعد دکھائی دیا۔ یہ کہاں سے تعلق رکھتا تھا اور اس کی منزل کیا تھی٬ دونوں باتیں آج تک پراسرار ہیں۔ اس شخص کو ڈی بی کوپر کا نام بھی میڈیا ہی نہیں دیا۔ کیونکہ بعض مسافروں نے اس کو کہتے سنا تھا کہ اس کا نام ڈین کوپر ہے۔ اس نے ایک کالے رنگ کا بارش میں پہننے والا کوٹ پہن رکھا تھا۔ اور اس کے پاس ایک کالے رنگ کا ہی بریف کیس تھا۔ جس میں اس کے مطابق بم تھا۔

اس واقعہ میں تمام 36 مسافر محفوظ رہے اور جہاز کو بھی کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اس واقعہ نے اس وقت کے میڈیا میں بہت زیادہ کوریج حاصل کی۔ ایف بی آئی نے اس شخص کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہی۔ اس شخص کے بارے میں بہت سی تھیوریز پیش کی گئیں 
لیکن حقیقت حال کا کسی کو معلوم نہیں۔