Namrood Kon Tha - Namrood Story In Urdu - Namrood Ki Maut Ka Waqia

 Namrood Kon Tha - Namrood Story In Urdu - Namrood Death - Namrood Ka Waqia - Namrood Ki Maut  نمرود کی موت -  ‫نمرود کون تھا‬ - نمرود کا انجام

Search Resu


نمرود 

 جس کو اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتیں عطاء کیں لیکن اس نے بجائے نعمتوں کی شکر گزاری کے اپنے رب ہونے کا دعوی کردیا۔ 

تفسیر ابن كثیر میں ہے ۔کہ نمرود بادشاہ کا پورا نام نمرود بن کنعان بن سام بن نوح تھا اس کا پایہ تخت بابل تھا اس کے نسب میں کچھ اختلاف بھی ہے، حضرت مجاہد فرماتے ہیں دنیا کی مشرق مغرب کی سلطنت رکھنے والے چار ہوئے جن میں سے دو مومن اور دو کافر، حضرت سلیمان بن داؤد اور حضرت ذوالقرنین، اور کافروں میں نمرود اور بخت نصر، 
چونکہ ایک مدت مدید اور عرصہ بعید سے یہ بادشاہ چلا آتا تھا اس لئے دماغ میں رعونت اور انانیت آ گئی تھی، سرکشی اور تکبر، نخوت اور غرور طبیعت میں سما گیا تھا، بعض لوگ کہتے ہیں چار سو سال تک حکومت کرتا رہا تھا، (تفسیر ابن کثیر)

مفسرین کا بیان ہے کہ ''نمرود بن کنعان ''بڑا جابر بادشاہ تھا۔ سب سے پہلے اسی نے تاج شاہی اپنے سر پر رکھا۔ اس سے پہلے کسی بادشاہ نے تاج نہیں پہنا تھا یہ لوگوں سے زبردستی اپنی پرستش کراتا تھا کاہن اور نجومی اس کے دربار میں بکثرت اس کے مقرب تھے۔ نمرود نے ایک رات یہ خواب دیکھا کہ ایک ستارہ نکلا اور اس کی روشنی میں چاند، سورج وغیرہ سارے ستارے بے نور ہو کر رہ گئے۔ کاہنوں اور نجومیوں نے اس خواب کی یہ تعبیر دی کہ ایک فرزند ایسا ہو گا جو تیری بادشاہی کے زوال کا باعث ہو گا۔ یہ سن کر نمرود بے حد پریشان ہو گیا اور اس نے یہ حکم دے دیا کہ میرے شہر میں جو بچہ پیدا ہو وہ قتل کردیا جائے۔ اور مرد عورتوں سے جدا رہیں۔ چنانچہ ہزاروں بچے قتل کردیئے گئے۔ مگر تقدیراتِ الٰہیہ کو کون ٹال سکتا ہے؟ اسی دوران حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہو گئے اور بادشاہ کے خوف سے ان کی والدہ نے شہر سے دور پہاڑ کے ایک غار میں ان کوچھپا دیا اسی غار میں چھپ کر ان کی والدہ روزانہ دودھ پلا دیا کرتی تھیں۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ سات برس کی عمر تک اور بعضوں نے تحریر فرمایا کہ سترہ برس تک آپ اسی غار میں پرورش پاتے رہے۔ (واللہ تعالیٰ اعلم)
( روح البیان،ج۳،ص۵۹،پ۷،الانعام:۷۵)

نمرود نے اپنی سلطنت بھر میں یہ قانون نافذ کردیا تھا کہ اس نے خوراک کی تمام چیزوں کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔ یہ صرف ان ہی لوگوں کو خوراک کا سامان دیا کرتا تھا جو لوگ اس کی خدائی کو تسلیم کرتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کے دربار میں غلہ لینے کے لئے تشریف لے گئے تو اس خبیث نے کہا کہ پہلے تم مجھ کو اپنا خدا تسلیم کرو جبھی میں تم کو غلہ دوں گا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھرے دربار میں علی الاعلان فرما دیا کہ تو جھوٹا ہے اور میں صرف ایک خدا کا پرستار ہوں جو وحدہ لاشریک ہے یہ سن کر نمرود آپے سے باہر ہو گیا 

اور آپ کو دربار سے نکال دیا اور ایک دانہ بھی نہیں دیا۔ آپ اور آپ کے چند متبعین جو مومن تھے بھوک کی شدت سے پریشان ہو کر جاں بلب ہو گئے۔ اس وقت آپ ایک تھیلا لے کر ایک ٹیلے کے پاس تشریف لے گئے اور تھیلے میں ریت بھر کر لائے اور خداوند قدوس سے دعا مانگی تو وہ ریت آٹا بن گئی اور آپ نے اس کو اپنے متبعین کو کھلایا اور خود بھی کھایا۔ پھر نمرود کی دشمنی اس حد تک بڑھ گئی کہ اس نے آپ کو آگ میں ڈلوا دیا۔ مگر وہ آگ آپ پر گلزار بن گئی اور آپ سلامتی کے ساتھ اس آگ سے باہر نکل آئے اور علی الاعلان نمرود کو جھوٹا کہہ کر خدائے وحدہ لاشریک لہ کی توحید کا چرچا کرنے لگے۔ نمرود نے آپ کے کلمہ حق سے تنگ آ کر ایک دن آپ کو اپنے دربار میں بلایا اور حسب ذیل مکالمہ بہ صورت مناظرہ شروع کردیا۔

نمرود:اے ابراہیم! بتاؤ تمہارا رب کون ہے جس کی عبادت کی تم لوگوں کو دعوت دے رہے ہو؟
حضرت ابراہیم:اے نمرود! میرا رب وہی ہے جو لوگوں کو جلاتا اور مارتا ہے۔
نمرود: یہ تو میں بھی کرسکتا ہوں چنانچہ اس وقت اس نے دو قیدیوں کو جیل خانہ سے دربار میں بلوایا ایک کو موت کی سزا ہوچکی تھی اور دوسرا رِہا ہوچکا تھا۔ نمرود نے پھانسی پانے والے کو تو چھوڑ دیا اور بے قصور کو پھانسی دے دی اور بولا کہ دیکھ لو کہ جو مردہ تھا میں نے اس کو جِلادیا اور جو زندہ تھا میں نے اس کو مردہ کردیا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سمجھ لیا کہ نمرود بالکل ہی احمق اور نہایت ہی گھامڑ آدمی ہے جو ''جِلانے اور مارنے'' کا یہ مطلب سمجھ بیٹھا ،اس لئے آپ نے اس کے سامنے ایک دوسری بہت ہی واضح اور روشن دلیل پیش فرمائی۔ چنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا:
حضرت ابراہیم:اے نمرود! میرا رب وہی ہے جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اگر تو خدا ہے تو ایک دن سورج کو مغرب سے نکال دے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دلیل سن کر نمرود مبہوت و حیران رہ گیا اور کچھ بھی نہ بول سکا۔ اس طرح یہ مناظرہ ختم ہو گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اس مناظرہ میں فتح مند ہو کر دربار سے باہر تشریف لائے اور توحید ِ الٰہی کا وعظ علی الاعلان فرمانا شروع کردیا۔ 

قرآن مجید نے اس مناظرہ کی روئیداد ان لفظوں میں بیان فرمائی کہ:۔
ترجمہ قرآن:۔اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا اسے جو ابراہیم سے جھگڑا اس کے رب کے بارے میں اس پر کہ اللہ نے اسے بادشاہی دی جب کہ ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے کہ جلاتا اور مارتا ہے بولا میں جلاتا اورمارتا ہوں ابراہیم نے فرمایا تو اللہ سورج کو لاتا ہے پورب سے تو اس کو پچھم سے لے آ تو ہوش اُڑ گئے کافر کے اور اللہ راہ نہیں دکھاتا ظالموں کو۔ (پ3،البقرۃ:258)

----------------------------------
زید بن اسلم کا قول ہے کہ اس ناہنجار بادشاہ کے پاس اللہ نے ایک فرشتہ بھیجا اس نے آکر اسے توحید کی دعوت دی لیکن اس نے قبول نہ کی، دوبارہ دعوت دی لیکن انکار کیا تیسری مرتبہ اللہ کی طرف بلایا لیکن پھر بھی یہ منکر ہی رہا۔ اس بار بار کے انکار کے بعد فرشتے نے اس سے کہا اچھا تو اپنا لشکر تیار کر میں بھی اپنا لشکر لے آتا ہوں، نمرود نے بڑا بھاری لشکر تیار کیا اور زبردست فوج کو لے کر سورج نکلنے کے میدان میں آ ڈٹا، ادھر اللہ تعالٰی نے مچھروں کا ایک دروازہ کھول دیا، بڑے بڑے مچھر اس کثرت سے آئے کہ لوگوں کو سورج بھی نظر نہ آتا تھا، اللہ کی یہ فوج نمرودیوں پر گری اور تھوڑی دیر میں ان کا خون تو کیا ان کا گوشت پوست سب کھا گئی اور سارے کے سارے یہیں ہلاک ہوگئے، ہڈیوں کا ڈھانچہ باقی رہ گیا، انہی مچھروں میں سے ایک نمرود کے نتھنے میں گھس گیا اور چارسو سال تک اس کا دماغ چاٹتا رہا ایسے عذاب میں وہ رہا کہ اس سے موت ہزاروں درجے بہتر تھی اپنا سر دیواروں اور پتھروں پر مارتا پھرتا تھا، ہتھوڑوں سے کچلواتا تھا، یونہی رینگ رینگ کر بدنصیب نے ہلاکت پائی۔العیاذباللہ۔

قرآن مجید فرقان حمید میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے

بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجئے۔ یہ سن کر کافر حیران رہ گیا۔ اور خدا بے انصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ 
﴿2:258﴾

Post a Comment

0 Comments