Ajeeb Khudkushi - The Strangest Suicide - Urdu Hindi Dilchasp Maloomat - Herat Angez Maloomat

Ajeeb O Ghareeb Waqia - Ronald Obus - Obos

Urdu-Dilchasp-Maloomat-Ronald-Obus-Obos

 تاریخ  کی عجیب خودکشی                                                                 

رونالڈ أوبوس نام کے شخص نے خودکشی کرنی چاہیے تو سب سے آسان طریقہ استعمال کیا اور وہ یہ کہ اس عمارت سے چھلانگ لگا دے جسمیں وہ رہتا تھا۔ اس نے عمارت کے دسویں منزل سے چھلانگ لگا دی اور اپنوں کے لیے خط چھوڑا جسمیں اس نے خودکشی کا وجہ  یہ بتائی کہ وہ زندگی سے مایوس ہو گیا تھا۔

لیکن 23  مارچ 1994 کو جب پوسٹ مارٹم رپورٹ آئی تو پتہ چلا کہ رونالد کی موت کی وجہ چھت پر گرنے سے نہیں بلکہ سر پر گولی لگنے سے ہوئی ہے۔

جب تحقیق ہوئی تو پتہ چلا کہ رونالڈ کو گولی اسی عمارت سے لگی ہے جسمیں وہ رہتا تھا اور وہ گولی نویں منزل سے  چلائی گئی تھی اور اس نویں منزل میں دو بوڑھے میاں بیوی کئی سالوں سے رہ رہے تھے۔

اور ہمسایوں سے معلوم ہوا کہ دونوں میاں بیوی آپس میں ہر وقت لڑتے جھگڑتے تھے اور عجیب بات یہ تھی کہ جب رونالڈ نے چھت پر سے اپنے آپ پھینکا عین اسی وقت بوڑھے شوہر پستول تھماے اپنی بیوی کو جان سے مارنے کی دھمکی دے رہاتھا۔

شدید غصے و ہیجان کی حالت میں شوہر نے غیر ارادی طور پر اپنی بیوی پر گولی چلائی لیکن چونکہ بیوی  نشانے سے دور تھی اسلیئے گولی اس وقت کھڑکی سے نکلی عین اسوقت جب رونالڈ نے خودکشی کے لیے چھلانگ لگائی جس سے وہ گولی اسکے سر میں لگی ،جس کی وجہ سے اسکی موت واقع ہوئی۔

 (کہانی میں ٹویسٹ ابھی باقی ہے)

  

عدالت میں  بوڑھے شوہر  پر غیر ارادی طور پر قتل کا مقدمہ چلا لیکن وہ اس بات پر اصرار کرتا رہا کہ وہ میاں بیوی ہر وقت لڑتے رہتے ہیں اور وہ ہر وقت اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتا ہے لیکن پستول ہر وقت فارغ ہی رہتا ہے اس میں گولیاں نہیں ہوتیں۔

مزید تحقیقات کرنے پر عجیب بات یہ معلوم ہوئی کہ  بوڑھے جوڑے کے رشتہ داروں میں سے کسی نے ایک ہفتہ قبل ان میاں بیوی کے بیٹے کو پستول میں گولیاں ڈالتے دیکھا تھا ۔ وجہ اسکی یہ تھی کہ ماں نے بیٹے کو مالی امداد دینے سے منع کر دیا تھا۔ تو بیٹے نے بوڑھے ماں باپ سے جان چھڑانے کی سوجھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کے والدین ہر وقت لڑتے رہتے ہیں اور لڑتے ہوئے وہ خالی پستول ماں پر تھان لیتا ہے  اس لیئے اس نے پستول میں گولی لوڈ کی تاکہ وہ ایک تیر سے دو شکار کرے۔

لیکن گولی اسکی ماں کو نہ لگی  اور وہ رونالڈ کے سر میں اس وقت لگی جب وہ خودکشی کر رہا تھا۔ اور اس طرح قتل کی تہمت کا مقدمہ باپ سے ہٹ کر بیٹے پر جا لگا۔


ساری واقعے میں سب سے عجیب بات یہ کہ رونالڈ بذات خود ان دونوں بوڑھے میاں بیوی کا بیٹا تھا اور اس نے ہی پستول میں گولی ڈالی تھی تاکہ وہ اپنے ماں باپ سے خلاصی پا سکے۔ 

لیکن مالی حالات خراب ہونے اور باپ کا اسکی کو مارنے میں تاخیر کرنے  کی وجہ سے اس نے خودکشی کا فیصلہ کیا اور اوپری منزل سے چھلانگ لگاتے ہوئے وہی گولی اسکو لگی جو اس نے خود پستول میں ڈالی تھی اس طرح وہ بذات خود قاتل بھی ہوا اور مقتول بھی۔